مظفرپور-سیتاڑھی قومی شاہراہ 77 پر درخت گرنے سے ٹریفک جام، ہزاروں مسافر گھنٹوں پھنسے رہے
مظفرپور: پیر کی دوپہر مظفرپور-سیتاڑھی قومی شاہراہ 77 (NH-77) پر شدید بارش کے دوران ایک دیو ہیکل درخت گرنے سے سڑک پر چار گھنٹے تک ٹریفک مکمل طور پر معطل رہا۔ اس واقعے کے نتیجے میں ہزاروں مسافر، جن میں شیوہر اور سیتاڑھی جانے والے اور وہاں سے آنے والے افراد شامل تھے، شدید جام میں پھنس گئے۔
زیرو مائل-سیتاڑھی روڈ پر پیش آنے والے اس واقعے نے مقامی لوگوں میں افراتفری مچا دی، اور خوش قسمتی سے دو درجن سے زائد افراد بال بال بچ گئے۔ درخت گرنے کے فوراً بعد سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، جس سے آمد و رفت مکمل طور پر ٹھپ ہو گئی۔
ابتدائی طور پر، چار گھنٹے تک جام رہنے کے باوجود، محکمہ جنگلات یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے درخت ہٹانے کے لیے کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی۔ اس صورتحال میں مقامی لوگوں نے خود ہی پہل کی اور سڑک سے درخت ہٹانے اور ٹریفک کی بحالی کی کوششیں شروع کر دیں۔ ان کی انتھک محنت سے درخت کی زیادہ تر شاخیں ہٹا دی گئیں، جس کے بعد گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر بحال ہو سکی۔
بعد ازاں، انٹرنیٹ میڈیا پر اس واقعے کی خبر پھیلنے کے بعد، دیر شام انتظامیہ کی ٹیم جے سی بی کے ساتھ موقع پر پہنچی۔ اہیاپور پولیس کی قیادت میں انتظامیہ نے جے سی بی کی مدد سے درخت کی موٹی شاخوں کو ہٹایا، جس سے سڑک مکمل طور پر صاف ہو گئی۔
سیتاڑھی روڈ پر جام کی وجہ سے مسافروں اور شیوہر-سیتاڑھی کے درمیان سفر کرنے والے افراد نے متبادل راستوں کا استعمال شروع کر دیا۔ انہوں نے شہبازپور کمیونٹی ہال سے درگا استھان لنک روڈ کا رخ کیا، لیکن گاڑیوں کی زیادہ تعداد اور تنگ سڑکوں کی وجہ سے یہ لنک روڈ بھی جلد ہی جام کا شکار ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں ایس کے ایم سی ایچ اور فور لین فلائی اوور کے قریب بھی شدید جام کی صورتحال پیدا ہو گئی، جہاں ایمبولینسیں بھی پھنسی رہیں۔
اس واقعے نے سڑکوں کی دیکھ بھال اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کی تیاری پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مقامی لوگوں کی بروقت مدد نے ایک بڑی مشکل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
