ملک بھر میں مون سون کی تباہ کاریاں: جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے سے 11 ہلاک، 250 گاڑیاں بہہ گئیں؛ کئی ریاستوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ
ملک کے مختلف حصوں میں مون سون کی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر، اتراکھنڈ اور ناگالینڈ سمیت کئی ریاستوں میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کے پونچھ اور کشتواڑ اضلاع میں بادل پھٹنے کے واقعات کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے اب تک 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ راجوری میں 200 سے 250 گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔
جموں و کشمیر میں صورتحال تشویشناک
پونچھ کے سورنکوٹ علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک مکان ملبے تلے دب گیا، جس میں موجود 8 افراد میں سے 2 سال کے بچے سمیت 5 افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ کشتواڑ کے سرنو علاقے میں بادل پھٹنے سے لوگوں کے گھروں اور کھیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ راجوری میں دھارحال ندی میں طغیانی کے بعد بڑے پیمانے پر گاڑیاں بہہ گئیں۔
خراب موسم کے پیش نظر امرناتھ یاترا کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جس کے باعث ہزاروں یاتری راستے میں پھنس گئے ہیں اور مختلف شاہراہوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ ریاسی ضلع میں چناب ندی میں پانی کی سطح بڑھنے کے بعد سلّال ڈیم کے کئی سپل وے گیٹ کھول دیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے عوام سے محتاط رہنے اور ندی نالوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔
اتراکھنڈ اور ناگالینڈ میں بھی تباہی
اتراکھنڈ میں لینڈ سلائیڈنگ کے بعد کیدارناتھ یاترا کے راستے پر گھوڑوں اور خچروں کی خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔ کیلاش مانسروور یاترا کا ایک قافلہ بھی پیتھوراگڑھ میں روک دیا گیا ہے۔ ریاست بھر میں 84 سڑکیں بند ہیں، جن میں دو قومی شاہراہیں بھی شامل ہیں۔ محکمہ موسمیات نے دہرادون، ہریدوار اور ٹہری اضلاع کے لیے ریڈ الرٹ جبکہ نینی تال، اترکاشی اور پوڑی کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ ہریدوار میں بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ناگالینڈ کے مون ضلع میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے ہیں جہاں 10 سے 15 گھر ملبے تلے دب گئے ہیں۔ این ڈی آر ایف اور آسام رائفلز کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور اب تک 8 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
اروناچل پردیش میں سیلاب کا قہر
اروناچل پردیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے اب تک 7 افراد ہلاک اور 29 زخمی ہوئے ہیں۔ ریاست کے 26 اضلاع، 328 سرکلز اور 576 گاؤں متاثر ہوئے ہیں، جس سے تقریباً 1.5 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے کی سب سے بڑی وجہ ہمالیہ کی اونچی پہاڑی سلسلے ہیں۔ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی نم ہوائیں ان پہاڑوں سے ٹکرا کر اوپر اٹھتی ہیں، جہاں وہ ٹھنڈی ہو کر تیزی سے بادلوں میں جمع ہو جاتی ہیں۔ تنگ وادیاں اور اونچی چوٹیاں بادلوں کو ایک جگہ روک دیتی ہیں، جس سے کم علاقے میں بہت زیادہ نمی جمع ہو جاتی ہے اور اچانک شدید بارش ہوتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، اگر 20-30 مربع کلومیٹر کے علاقے میں ایک گھنٹے یا اس سے کم وقت میں 100 ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش ہو تو اسے بادل پھٹنا کہا جاتا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
