مقامی خبریں

منگیر صدر اسپتال میں 330 نئے پولیس اہلکاروں کا طبی معائنہ مکمل

منگیر: بہار پولیس میں شمولیت اختیار کرنے والے 330 نئے اہلکاروں کا طبی معائنہ منگیر صدر اسپتال میں کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ طبی جانچ جمعہ کے روز فیبریکیٹڈ بلڈنگ میں کی گئی جس کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ یہ نئے اہلکار ملک کی خدمت کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل طور پر تیار ہیں۔

اس طبی معائنے کی نگرانی خود سول سرجن ڈاکٹر راجو کر رہے تھے۔ اسپتال انتظامیہ نے اس اہم کام کے لیے ایک خصوصی میڈیکل ٹیم تشکیل دی تھی تاکہ ہر اہلکار کی صحت کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔ اس ٹیم میں معروف ہڈیوں کے ماہر ڈاکٹر نرنجن کمار، ماہر امراض چشم ڈاکٹر کسٹو، اور فزیشن ڈاکٹر کے. رنجن شامل تھے۔ انہوں نے اہلکاروں کی صحت کے تمام ضروری معیارات کو پرکھا۔

صبح سے ہی اسپتال میں گہما گہمی

طبی معائنے کے لیے صبح سے ہی اسپتال کے احاطے میں کافی گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔ نظم و ضبط کے پابند اہلکار اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس پورے عمل کے دوران امن و امان اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے پولیس محکمہ کی جانب سے سب انسپکٹر (ایس آئی) مدھومالتی اور تارکیشور کمار خصوصی طور پر تعینات تھے۔

سول سرجن ڈاکٹر راجو نے اس موقع پر بتایا کہ پولیس کی ملازمت ایک انتہائی چیلنجنگ پیشہ ہے جس کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل فٹ ہونا لازمی ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے، 2026 بیچ کے ان تمام 330 اہلکاروں کا گہرا طبی معائنہ پرامن طریقے سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ جانچ اس بات کی ضمانت ہے کہ بہار پولیس کو ایسے اہلکار ملیں گے جو اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا سکیں گے۔

اس طبی معائنے کا مقصد صرف جسمانی صحت کی جانچ نہیں تھا بلکہ یہ بھی یقینی بنانا تھا کہ اہلکار ذہنی طور پر بھی اس مشکل اور ذمہ دارانہ کام کے لیے تیار ہوں۔ پولیس فورس میں شامل ہونے والے ہر فرد کی صحت اور فٹنس کو اولین ترجیح دی جاتی ہے تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی خدمات انجام دے سکیں۔ یہ عمل بہار پولیس کی جانب سے اپنے اہلکاروں کی صحت اور کارکردگی کو یقینی بنانے کے عزم کا مظہر ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button