مقامی خبریں

مظفرپور: 23 وارڈ کونسلرز کا بورڈ میٹنگ کا بائیکاٹ، اجلاس ملتوی

مظفرپور کے صاحب گنج میں ہفتے کے روز اس وقت ایک اہم پیش رفت ہوئی جب ناراض 23 وارڈ کونسلرز نے نگر پریشد کی بورڈ میٹنگ کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس بائیکاٹ کے نتیجے میں میٹنگ منعقد نہ ہو سکی اور اسے ملتوی کرنا پڑا۔ یہ واقعہ مقامی حکومتی ڈھانچے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور عدم اطمینان کی عکاسی کرتا ہے۔

میٹنگ میں شرکت کے لیے صرف چیف کونسلر کلاوتی دیوی کے علاوہ وارڈ کونسلرز پربھو کمار، چندیشور ساہ اور نیرج کمار ہی پہنچے تھے۔ 26 وارڈ کونسلرز میں سے 23 کی غیر حاضری نے کورم پورا نہ ہونے دیا، جس کے باعث ایگزیکٹو آفیسر (ای او) محمد فیروز کو اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔

وارڈ کونسلر سنگھ کے بلاک صدر اور بااختیار اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن، بندیل پاسوان نے اس بائیکاٹ کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ای او کی جانب سے بورڈ اور بااختیار اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگز میں منظور شدہ قراردادوں پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے زور دیا کہ کونسلرز کی ناراضگی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان کے فیصلوں اور تجاویز کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا رہا۔

وارڈ کونسلر شیلا پٹوا نے بھی اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی کئی میٹنگز میں رہائش، نل جل یوجنا (پائپ سے پانی کی فراہمی)، نالوں کی تعمیر، سمراٹ اشوک بھون، بس اور آٹو اسٹینڈ کی تعمیر سمیت متعدد ترقیاتی منصوبوں پر بحث ہوتی رہی ہے اور قراردادیں بھی منظور ہوتی رہی ہیں، لیکن آج تک ان میں سے کسی بھی منصوبے کو عملی شکل نہیں دی جا سکی۔ ان کے مطابق، یہ صورتحال کونسلرز کے لیے انتہائی مایوس کن ہے۔

دوسری جانب، ای او محمد فیروز نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے آٹھ کروڑ روپے کا ٹینڈر بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام کام محکمہ جاتی ہدایات کے مطابق ہو رہے ہیں۔ تاہم، کونسلرز کا موقف ہے کہ صرف ٹینڈر بھیجنا کافی نہیں، بلکہ منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ہونا چاہیے۔

اس صورتحال نے صاحب گنج میں ترقیاتی کاموں کی رفتار اور مقامی حکومتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کونسلرز کا بائیکاٹ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر ان کے خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو مستقبل میں بھی ایسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ مقامی عوام کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کے درمیان یہ تعطل کب اور کیسے ختم ہوتا ہے تاکہ ترقیاتی کاموں میں تیزی آ سکے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button