دربھنگہ: مٹی کے فنکاروں کے لیے امید کی کرن، ٹیراکوٹا سینٹر کی بحالی کا فیصلہ
دربھنگہ کے مٹی کے فنکاروں کے لیے خوشخبری
دربھنگہ کے مٹھیاروں اور روایتی دستکاروں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مدھارپور میں واقع ٹیراکوٹا کامن فیسیلیٹی سینٹر، جو طویل عرصے سے خستہ حالی اور حکومتی غفلت کا شکار تھا، اب جلد ہی اپنی کھوئی ہوئی شان بحال کرے گا۔ اس مرکز کی مرمت اور جدید کاری کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مقامی فنکاروں کو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر مارکیٹنگ کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
منصوبے کا پس منظر
سال 2020 میں تقریباً پانچ کروڑ روپے کی خطیر رقم سے تعمیر کیے گئے اس مرکز کا بنیادی مقصد متھلا کے روایتی مٹی کے فن کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ تاہم، بدقسمتی سے افتتاح سے قبل ہی یہ عمارت دیکھ بھال کے فقدان کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی تھی۔ یہاں کے مقامی دستکار، جو اپنی مہارت کے لیے مشہور ہیں، اس مرکز کے فعال نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار تھے۔
اعلیٰ سطحی ملاقات اور مطالبات
حال ہی میں دربھنگہ کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر گوپال جی ٹھاکر نے پٹنہ میں بہار کی وزیر صنعت شریسی سنگھ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے مرکز کی موجودہ ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیر صنعت کو ایک باضابطہ مراسلہ سونپا جس میں درج ذیل مطالبات شامل ہیں:
- مرکز کی فوری مرمت اور بحالی کا کام شروع کیا جائے۔
- اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔
- مرکز کو جلد از جلد فعال کیا جائے تاکہ مقامی دستکاروں کو روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں۔
- دربھنگہ ضلع میں نئی صنعتی اکائیوں کے قیام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
مستقبل کی امیدیں
مقامی سطح پر اس خبر کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ مرکز مکمل طور پر فعال ہو جاتا ہے تو نہ صرف مٹی کے برتن بنانے والے فنکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ متھلا کے اس قدیم فن کو عالمی سطح پر ایک نئی پہچان بھی ملے گی۔ عوام اب حکومت کی جانب سے عملی اقدامات کے منتظر ہیں تاکہ پانچ کروڑ کی اس سرمایہ کاری کا فائدہ اصل حقداروں تک پہنچ سکے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔