گائے گھاٹ کے اسکول میں چوری: لاکھوں کا سامان اور اہم سرکاری دستاویزات غائب، انتظامیہ پریشان
مظفرپور کے گائے گھاٹ بلاک میں واقع مدھیہ ودیالیہ برہموترا سے نامعلوم چوروں نے لاکھوں روپے مالیت کا اسکول کا سامان اور انتہائی اہم سرکاری دستاویزات چرا لیے ہیں۔ اس واردات سے اسکول انتظامیہ اور مقامی باشندوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
واردات پیر کی صبح اس وقت سامنے آئی جب اسکول کی انچارج پرنسپل اسکول پہنچیں۔ انہوں نے دیکھا کہ دفتر اور اسٹاف روم کا تالا ٹوٹا ہوا تھا۔ دیگر اساتذہ کی موجودگی میں جب کمرہ کھولا گیا تو اندر کا منظر حیران کن تھا۔ سارا سامان بکھرا پڑا تھا اور اہم فائلیں فرش پر پھیلی ہوئی تھیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، چوروں نے درازوں کو توڑ کر کئی ضروری سرکاری دستاویزات، چابیوں کا گچھا، تقریباً 50 لائبریری کی کتابیں، ایک اسٹینڈ فین، ایک ایمپلیفائر مشین اور بڑی تعداد میں موسیقی کے آلات چرا لیے ہیں۔ ان سرکاری ریکارڈز کی چوری سے اسکول کے انتظامی امور شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اس واقعے نے اساتذہ اور گاؤں والوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے، چوری شدہ سامان برآمد کرے اور جلد از جلد مجرموں کو گرفتار کرے۔
گائے گھاٹ تھانے کے ایس ایچ او جے پرکاش گپتا نے تصدیق کی ہے کہ انہیں اس سلسلے میں ایک تحریری درخواست موصول ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے اور انہیں یقین ہے کہ جلد ہی چوری کی اس واردات کا پردہ فاش کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس واردات نے علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور مقامی لوگ پولیس سے بہتر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔