مقامی خبریں

کروڑوں کے منصوبے، پھر بھی منجھول کا صدیقی میدان زیرِ آب: حکومتی دعوؤں کی حقیقت

منجھول کے صدیقی میدان کی بدحالی: ترقیاتی منصوبوں پر سوال

بیگوسرائے کے منجھول سب ڈویژن میں واقع صدیقی میدان، جو کبھی کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز تھا، آج ایک بار پھر بارش کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کیے گئے اس میدان کی یہ حالت حکومتی ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی اور ان کی منصوبہ بندی پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔ مسلسل بارشوں کے بعد پورا میدان جھیل کا منظر پیش کر رہا ہے، جس سے کھلاڑیوں، صبح کی سیر کرنے والوں اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق، گزشتہ تقریباً پچیس برسوں کے دوران پنچایتی راج اداروں، ایم ایل اے فنڈ، ایم پی فنڈ اور دیگر سرکاری اسکیموں کے تحت اس میدان کی ترقی پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں تماشائیوں کے لیے گیلری، اسٹیج، مٹی بھرائی اور دیگر تعمیراتی کام شامل تھے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ بارش کے پانی کی نکاسی کا کوئی مستقل انتظام نہیں کیا گیا۔ اسی لاپرواہی کا نتیجہ ہے کہ ہر سال مون سون کے موسم میں یہ میدان پانی سے بھر جاتا ہے۔

کھیلوں کی سرگرمیاں معطل، کھلاڑی پریشان

اس وقت والی بال، کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے میدان مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ میدان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پانی بھر جانے کی وجہ سے تمام کھیل کی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔ کھلاڑیوں کو اپنی مشق کے لیے متبادل جگہیں تلاش کرنی پڑ رہی ہیں، جو ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ مقامی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ نیا نہیں ہے بلکہ ہر سال بارشوں کے دوران سامنے آتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار متعلقہ حکام اور عوامی نمائندوں سے شکایت کی ہے، لیکن اب تک کوئی مستقل حل نہیں نکالا جا سکا ہے۔

عوام کا حکام پر الزام: بنیادی ضروریات کی نظراندازی

مقامی شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں پر مسلسل خطیر رقم خرچ ہونے کے باوجود پانی کی نکاسی جیسی بنیادی ضرورت کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ منصوبے تیار کرنے والے افسران، تکنیکی منظوری دینے والے انجینئرز اور تعمیراتی ایجنسیوں کی لاپرواہی کا خمیازہ اب کھلاڑی اور عام لوگ بھگت رہے ہیں۔

عوام نے ضلع انتظامیہ اور عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ صدیقی میدان میں سائنسی طریقے سے مستقل پانی کی نکاسی کا نظام تیار کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کیے گئے اس کھیل کے میدان کو سال بھر کھیلوں، ثقافتی پروگراموں اور دیگر تقریبات کے لیے استعمال کیا جا سکے، اس کے لیے پانی کے جمع ہونے کے مسئلے کا مستقل حل انتہائی ضروری ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button