ایس کے ایم سی ایچ سے تین زخمی مریض پراسرار طور پر لاپتہ، لواحقین کا ہنگامہ
مظفرپور کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں سیکیورٹی کے دعووں کی قلعی کھل گئی
مظفرپور کے ایس کے ایم سی ایچ (SKMCH) ایمرجنسی وارڈ سے ایک ہی خاندان کے تین زخمی افراد کے اچانک غائب ہو جانے سے ہسپتال انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اہیاپور تھانہ علاقہ کے بکھری ٹرما کے قریب ایک سڑک حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کے لیے یہاں لایا گیا تھا۔
حادثہ اور ہسپتال منتقلی
تفصیلات کے مطابق، بھکھاری مہتو اور ان کے اہل خانہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک آٹو رکشہ سے ان کی ٹکر ہو گئی۔ اس حادثے میں تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔ موقع پر پہنچی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو ایک نجی گاڑی کے ذریعے علاج کے لیے ایس کے ایم سی ایچ روانہ کیا۔ پولیس نے اہل خانہ کو مطلع کیا کہ زخمیوں کو ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرایا گیا ہے۔
وارڈ پہنچتے ہی ہوش اڑ گئے
جب زخمیوں کے لواحقین ہسپتال پہنچے تو وہاں کا منظر دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے۔ ایمرجنسی وارڈ میں تلاش کرنے کے باوجود انہیں اپنے مریض کہیں نظر نہیں آئے۔ مریضوں کے غائب ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اہل خانہ نے ہسپتال کے احاطے میں شدید ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔
دلالوں کے ملوث ہونے کا شبہ
مشتعل لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ ایس کے ایم سی ایچ میں نجی ہسپتالوں کے دلال سرگرم ہیں، جو سرکاری ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو ورغلا کر یا ڈرا دھمکا کر اپنے نجی ہسپتالوں میں لے جاتے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں مریضوں کا اس طرح غائب ہو جانا کسی بڑی سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
انتظامیہ کی خاموشی
ہنگامے کے بعد پولیس اور ہسپتال انتظامیہ حرکت میں آئی اور آس پاس کے نجی ہسپتالوں میں تلاش شروع کی، لیکن خبر لکھے جانے تک تینوں مریضوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔ پولیس اب معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مریضوں کو کون اور کہاں لے گیا ہے۔ اس واقعے نے سرکاری ہسپتال کی سیکیورٹی اور انتظامی امور پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
