مظفرپور: راشن کارڈ کے بحران پر جے ڈی یو کا ایکشن، ڈی ایم سے فوری مداخلت کا مطالبہ
راشن کارڈ کی بندش اور ناموں کی کٹوتی پر تشویش
مظفرپور میں راشن کارڈ کے حصول میں درپیش مشکلات اور مستحقین کے نام فہرست سے غائب ہونے کے معاملے پر عوامی نمائندوں نے ضلعی انتظامیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ پیر کے روز جنتا دل (یو) کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ کمار گورو سے ملاقات کی اور ضلع میں جاری راشن کارڈ کے بحران کو لے کر ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا۔
مغربی سب ڈویژن میں سب سے زیادہ پریشانی
وفد کی قیادت کرتے ہوئے ریاستی سیاسی مشاورتی کمیٹی کے رکن سوربھ کمار صاحب نے ڈی ایم کو بتایا کہ ضلع کے مختلف علاقوں، خاص طور پر مغربی سب ڈویژن میں غریب خاندانوں کو راشن کارڈ بنوانے کے لیے سخت جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ طویل عرصے سے پورٹل بند ہونے کی وجہ سے نئے درخواست گزاروں کی فائلیں التواء کا شکار ہیں، جس سے عام لوگوں میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے۔
مستحقین کے نام فہرست سے غائب
ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ کئی ایسے خاندان جو سرکاری اناج کے حقدار ہیں، ان کے نام بغیر کسی ٹھوس وجہ کے راشن کارڈ کی فہرست سے حذف کر دیے گئے ہیں۔ اس عمل سے غریب طبقہ براہ راست متاثر ہو رہا ہے اور انہیں بنیادی سہولیات سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے تاکہ غلطیوں کی نشاندہی ہو سکے۔
فزیکل ویریفکیشن کا مطالبہ
جے ڈی یو رہنماؤں نے ضلعی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ راشن کارڈ سے متعلق تمام شکایات کا زمینی سطح پر فزیکل ویریفکیشن کیا جائے۔ اس عمل سے یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ صرف حقیقی ضرورت مندوں تک ہی پہنچے۔
انتظامیہ کا یقین
ضلع مجسٹریٹ نے وفد کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کو غور سے سنا اور یقین دلایا کہ راشن کارڈ کے مسائل کے حل کے لیے ضابطہ اخلاق کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر جلد کارروائی کی امید ظاہر کی گئی ہے تاکہ عام لوگوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
