بی آر اے بہار یونیورسٹی: پی ایچ ڈی داخلہ عمل پر طلبہ تنظیموں کے سنگین سوالات
پی ایچ ڈی داخلہ عمل میں شفافیت کا فقدان
مظفرپور میں واقع بی آر اے بہار یونیورسٹی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ اس بار معاملہ پی ایچ ڈی میں داخلے کے لیے منعقد ہونے والے امتحانات یعنی پی اے ٹی (PAT) 2023 اور 2024 سے جڑا ہے۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (AISF) نے یونیورسٹی انتظامیہ کے طریقہ کار پر سخت اعتراضات اٹھائے ہیں اور داخلہ عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا ہے۔
خالی نشستوں کا ڈیٹا غائب
طلبہ تنظیم کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ یونیورسٹی نے امیدواروں سے درخواستیں تو طلب کر لیں، لیکن داخلے کے عمل کے دوران کسی بھی مرحلے پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس مضمون میں اور کس شعبے میں کتنی نشستیں خالی ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ شفافیت کے اصولوں کے تحت یونیورسٹی کو درخواستیں لینے سے پہلے ہی موضوع وار اور شعبہ وار خالی نشستوں کی تفصیلات عام کرنی چاہیے تھیں۔
امیدواروں میں تشویش
اس صورتحال نے پی ایچ ڈی کے خواہشمند امیدواروں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ طلبہ کا ماننا ہے کہ جب تک نشستوں کی تعداد کا علم نہیں ہوگا، تب تک داخلہ عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھتے رہیں گے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر اب تک کوئی ٹھوس وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، جس کی وجہ سے طلبہ تنظیموں کا احتجاج تیز ہوتا جا رہا ہے۔
انتظامیہ سے جواب طلبی
AISF نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ فوری طور پر پی اے ٹی 2023 اور 2024 کے تحت تمام مضامین میں خالی نشستوں کی فہرست جاری کرے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر یونیورسٹی نے جلد ہی اس معاملے میں شفافیت نہیں دکھائی تو طلبہ تنظیمیں احتجاج کو مزید وسیع کرنے پر مجبور ہوں گی۔ یونیورسٹی کے تعلیمی معیار اور داخلہ عمل کی ساکھ کو بچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انتظامیہ تمام تر تفصیلات کو عوامی کرے تاکہ امیدواروں کے شکوک و شبہات دور ہو سکیں۔
فی الحال، یونیورسٹی کے ذمہ داران کی جانب سے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی ہے، جس سے طلبہ کی ناراضگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
