مقامی خبریں

مظفرپور: ہلاک شدہ شوٹر گووند کی جائیدادوں پر انتظامیہ کا شکنجہ، خرید و فروخت پر مکمل پابندی

مجرمانہ اثاثوں کی منتقلی پر روک

مظفرپور میں بدنام زمانہ شوٹر گووند کمار کے قتل کے بعد بھی اس کے خلاف قانونی شکنجہ مزید سخت ہو گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے مجرمانہ سرگرمیوں سے کمائی گئی دولت اور جائیدادوں کو محفوظ کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ گووند کے قریبی رشتہ دار ان اثاثوں کو چھپانے یا کسی اور کے نام منتقل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس کے پیش نظر اب ان تمام جائیدادوں کی نگرانی شروع کر دی گئی ہے۔

رجسٹری اور ٹرانسفر پر پابندی

ضلعی سب رجسٹرار آفس نے گووند اور اس کے قریبی ساتھیوں کے نام پر درج تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کی خرید و فروخت پر فوری اثر سے پابندی عائد کر دی ہے۔ اب ان جائیدادوں کی رجسٹری، انتقال یا کسی بھی قسم کا سودا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ مجرمانہ طریقے سے حاصل کی گئی زمینوں کو قانونی دائرے سے باہر جانے سے روکا جا سکے۔

لگژری گاڑیوں پر بھی کارروائی

صرف زمین ہی نہیں، بلکہ ٹرانسپورٹ محکمہ نے بھی گووند سے جڑی گاڑیوں کے خلاف سخت رخ اختیار کیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے اور اس کے قریبی لوگوں کے نام پر کئی مہنگی گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، جن میں ایک فارچونر سمیت تین لگژری گاڑیاں شامل ہیں۔ اب ان گاڑیوں کی ملکیت کی منتقلی (Ownership Transfer) کو بلاک کر دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ انتظامی اجازت کے بغیر ان کی فروخت ممکن نہیں ہوگی۔

پولیس کی تفتیش اور ضبطی کا عمل

پولیس کی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ گووند بھتہ خوری، زمین پر قبضہ اور سپاری کلنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث تھا۔ اس نے اپنی غیر قانونی کمائی سے اپنے والد اور دیگر رشتہ داروں کے نام پر کئی قیمتی زمینیں خریدی تھیں۔ منیاری تھانہ پولیس نے بی این ایس ایس کی دفعہ 107 کے تحت ان تمام جائیدادوں کو ضبط کرنے اور انہیں سرکاری تحویل میں لینے کی تجویز عدالت کو بھیج دی ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ جرائم کی دنیا سے کمائی گئی دولت کو ضبط کرنا ہی ایسے عناصر کے خلاف سب سے مؤثر کارروائی ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button