بی آر اے بی یو: گریجویشن میں داخلے کے لیے درخواست کے بعد ہر سال 30 ہزار طلباء کیوں ہو جاتے ہیں غائب؟
تعلیمی بحران: داخلہ فارم بھرنے کے بعد بھی طلبا کا یونیورسٹی سے کنارہ کشی اختیار کرنا
مظفرپور کی بی آر امبیڈکر بہار یونیورسٹی (BRABU) میں ہر سال ایک تشویشناک رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں گریجویشن میں داخلے کے لیے درخواست دینے والے تقریباً 30 ہزار طلباء حتمی داخلے تک پہنچنے سے پہلے ہی غائب ہو جاتے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے اعداد و شمار کے مطابق، یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ طلباء کے مستقبل کے حوالے سے بھی کئی خدشات کو جنم دے رہی ہے۔
درخواست کے بعد فیس کیوں نہیں جمع ہوتی؟
یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس سال بھی تقریباً 20 ہزار ایسے امیدوار سامنے آئے جنہوں نے آن لائن رجسٹریشن تو کروائی، لیکن فیس جمع کرنے کے مرحلے پر ہی رک گئے۔ فیس جمع نہ ہونے کی وجہ سے ان کی درخواستیں خود بخود منسوخ ہو گئیں۔ اس کے علاوہ، ایک بڑی تعداد ان طلباء کی ہے جو میرٹ لسٹ میں نام آنے کے باوجود داخلہ لینے سے گریز کرتے ہیں۔
اس رجحان کے پیچھے کئی اہم وجوہات بتائی جا رہی ہیں:
- مسابقتی امتحانات کی تیاری: بہت سے طلباء جو دیگر سرکاری ملازمتوں یا مسابقتی امتحانات کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں، وہ صرف متبادل کے طور پر فارم بھرتے ہیں، لیکن کلاسز نہ کر پانے کے خوف سے داخلہ نہیں لیتے۔
- سیشن میں تاخیر: یونیورسٹی کا تعلیمی سیشن بروقت نہ ہونا طلباء کی سب سے بڑی شکایت ہے۔ سیشن لیٹ ہونے کی وجہ سے طلباء دوسرے تعلیمی اداروں کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
- پروفیشنل کورسز کا رجحان: حالیہ برسوں میں طلباء کا رجحان روایتی گریجویشن کے بجائے پروفیشنل کورسز جیسے ڈی ایل ایڈ (D.El.Ed) کی طرف زیادہ بڑھ گیا ہے۔
انتظامیہ کا موقف اور مستقبل کا لائحہ عمل
یونیورسٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ سیشن کو وقت پر لانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں اور زیر التواء امتحانات کو جلد از جلد مکمل کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سال یونیورسٹی میں تقریباً پونے دو لاکھ نشستوں پر داخلے کا عمل اگلے ہفتے سے شروع ہونے والا ہے، جبکہ اب تک ایک لاکھ 30 ہزار طلباء نے اپنی فیس جمع کر کے داخلے کی تصدیق کر لی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے امتحانی نظام میں شفافیت اور وقت کی پابندی آئے گی، طلباء کا یونیورسٹی پر اعتماد بحال ہوگا اور داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔