مظفرپور کے اسپتالوں میں زندگی اور موت کا کھیل: تنگ گلیوں میں قائم نجی مراکز پر سوالیہ نشان
مظفرپور میں طبی مراکز کی سیکیورٹی پر سنگین خدشات
حال ہی میں پیش آنے والے ایک نجی اسپتال کے آتشزدگی کے واقعے نے مظفرپور کے طبی نظام کی خستہ حالی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ شہر کی تنگ گلیوں میں قائم درجنوں نجی اسپتال اور کلینک اب مریضوں کے لیے موت کا کنواں بن چکے ہیں۔ ان مراکز میں نہ صرف آگ سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات کا فقدان ہے، بلکہ ہنگامی صورتحال میں مریضوں کا انخلا بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
انتظامی لاپرواہی اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی
شہر کے مصروف ترین علاقوں جیسے جوران چھپرا، بھگوان پور، اور میڈیکل روڈ کے اطراف میں قائم نجی اسپتالوں کی عمارتیں اس قدر تنگ راستوں پر واقع ہیں کہ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں وہاں پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان اسپتالوں میں داخلہ تو آسان ہے، لیکن کسی حادثے کی صورت میں یہاں سے نکلنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔
اعداد و شمار کی تلخ حقیقت
محکمہ صحت کے ریکارڈ کے مطابق ضلع میں 1,091 رجسٹرڈ نرسنگ ہوم اور ہیلتھ سینٹرز کام کر رہے ہیں، جن میں 96 پیتھالوجی لیبز بھی شامل ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق شہر میں تقریباً پانچ ہزار کے قریب غیر رجسٹرڈ نجی اسپتال اور کلینک بغیر کسی حکومتی نگرانی کے چلائے جا رہے ہیں۔ یہ غیر قانونی مراکز نہ صرف مریضوں کی جان سے کھیل رہے ہیں بلکہ طبی اخلاقیات کی بھی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔
انتظامیہ کا سخت ایکشن پلان
اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ، اور عمارت کے ڈھانچے کی جانچ پڑتال کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ جو اسپتال مقررہ حفاظتی معیارات پر پورا نہیں اتریں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں لائسنس کی منسوخی بھی شامل ہے۔ شہر کے باسی اب اس بات کے منتظر ہیں کہ کب تک ان غیر محفوظ اسپتالوں کو بند کر کے مریضوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
