دہلی میں گرمی کا قہر: 14 سالہ ریکارڈ ٹوٹا، راتیں بھی بن گئیں تندور
دارالحکومت میں شدید گرمی کا راج
قومی دارالحکومت دہلی اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں دن کے ساتھ ساتھ راتیں بھی شہریوں کے لیے وبالِ جان بنی ہوئی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، دہلی میں گرمی نے گزشتہ 14 سالوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے، جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
راتوں کا درجہ حرارت تشویشناک
عام طور پر دن میں گرمی کے بعد رات کو کچھ سکون ملتا ہے، لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے۔ پیر کے روز دہلی کا کم سے کم درجہ حرارت 32.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 5.7 ڈگری زیادہ ہے۔ یہ صورتحال مئی کے مہینے میں گزشتہ 14 سالوں کے دوران سب سے زیادہ گرم رات کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے قبل 2012 میں ایسی ہی گرم رات کا تجربہ کیا گیا تھا۔
مختلف علاقوں کا حال
شہر کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت کی صورتحال کچھ یوں رہی:
- سفدرجنگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43.5 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔
- پالم کے علاقے میں پارہ 44 ڈگری سیلسیس تک جا پہنچا۔
- لوڑھی روڈ، ریز اور آیا نگر جیسے علاقوں میں بھی درجہ حرارت 43 سے 44 ڈگری کے درمیان رہا۔
محکمہ موسمیات کی وارننگ
محکمہ موسمیات نے منگل کے لیے بھی ‘یلو الرٹ’ جاری کیا ہے۔ پیش گوئی کے مطابق، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 ڈگری تک رہنے کا امکان ہے، جبکہ رات کا درجہ حرارت بھی 30 ڈگری کے آس پاس برقرار رہ سکتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دوپہر کے وقت گھروں سے باہر نکلنے میں احتیاط برتیں۔
کب ملے گی راحت؟
اگرچہ کچھ علاقوں میں شام کے وقت گرد آلود ہوائیں چلنے اور ہلکی بوندا باندی کا امکان ہے، لیکن یہ راحت عارضی ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 27 سے 28 مئی کے درمیان مغربی ہواؤں کے اثر سے پری مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جس کے بعد 29 مئی سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی کی توقع کی جا سکتی ہے۔
آلودگی میں اضافہ
گرمی کے ساتھ ساتھ دہلی کی ہوا کا معیار بھی مسلسل خراب ہو رہا ہے۔ پیر کو ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 254 ریکارڈ کیا گیا، جو ‘خراب’ زمرے میں آتا ہے۔ ہوا میں نمی اور دھند کے باعث آلودگی کے ذرات فضا میں جم گئے ہیں، جس سے سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
