مظفرپور: نوزائیدہ بچی کی موت پر نرسنگ ہوم میں ہنگامہ، عملہ فرار
مظفرپور کے سکرا میں ایک نجی نرسنگ ہوم میں نوزائیدہ بچی کی موت کے بعد شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اتوار کی رات پیش آنے والے اس واقعے کے بعد نرسنگ ہوم کی مالکن اور دیگر عملہ موقع سے فرار ہو گیا۔ یہ ہنگامہ رات ایک بجے شروع ہوا اور پیر کی صبح نو بجے تک جاری رہا، جس کے بعد پولیس نے مداخلت کر کے صورتحال کو پرسکون کیا۔
مرول بلاک کے اٹہا گاؤں کے رہائشی موہن کمار نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ چاندنی کماری کو علاج کے لیے اس نرسنگ ہوم میں داخل کرایا تھا۔ داخلے کے وقت، نرسنگ ہوم کی انتظامیہ نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ایک سند یافتہ ڈاکٹر کے ذریعے علاج کیا جائے گا۔ اس کے بعد، کل 35 ہزار روپے کا خرچہ بتایا گیا۔ آپریشن کے بعد بچی کی پیدائش ہوئی، لیکن اسے فوراً ایک شیشے کے باکس میں رکھ دیا گیا اور بتایا گیا کہ اسے آئی سی یو میں رکھا گیا ہے۔
موہن کمار کے مطابق، نرسنگ ہوم کی مالکن نے نوزائیدہ بچی کے علاج کے لیے مزید 50 ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ بچی کی حالت بہتر ہونے کے بجائے بگڑتی چلی گئی۔ مالکن نے انہیں یقین دلایا کہ بچی ٹھیک ہو جائے گی، لیکن اتوار کی رات بچی کی موت ہو گئی۔ بچی کی موت کے بعد، نرسنگ ہوم کی مالکن اور اس کے شوہر سمیت تمام عملہ موقع سے فرار ہو گیا۔
دوسری جانب، نرسنگ ہوم کی مالکن رینا دیوی نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کو 21 مئی کو داخل کیا گیا تھا اور آپریشن کے ذریعے بچی کی پیدائش ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوزائیدہ بچی کی صحت ٹھیک نہیں تھی اور انہوں نے والدین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اسے کسی دوسرے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں، لیکن والدین نے ایسا نہیں کیا۔ رینا دیوی کے مطابق، جب بچی کی حالت انتہائی نازک ہو گئی تو والدین اسے رات میں مظفرپور کی طرف لے گئے، اور پھر اچانک رات ایک بجے مردہ بچی کو لے کر کلینک واپس آئے اور ہنگامہ شروع کر دیا۔ رینا دیوی نے بھی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔
سکرا تھانے کے ایس ایچ او کملیش کمار نے بتایا کہ پولیس موقع پر پہنچی تھی اور لوگوں کو پرسکون کرایا گیا۔ بچی کی لاش کو اس کے اہل خانہ اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخواست موصول ہونے پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ یہ واقعہ علاقے میں نجی نرسنگ ہومز کی کارکردگی اور ان میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔