چندوارا پل کے قریب غیر قانونی مٹی کا کھنن: پل کی بنیادوں پر منڈلاتا خطرہ
چندوارا پل پر خطرے کے بادل
مظفرپور کے چندوارا پل کی تعمیر کے دوران مٹی کے غیر قانونی کھنن کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ پل کی تعمیراتی مضبوطی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بوڑھی گنڈک ندی کے کنارے ہونے والی اس کھدائی نے مقامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
مقررہ حد سے سات گنا زیادہ کھدائی
سرکاری دستاویزات کے مطابق، ٹھیکیدار کمپنی کو پل کے اپروچ روڈ کی تعمیر کے لیے صرف 25,000 کیوبک میٹر مٹی نکالنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم، الزامات کے مطابق کمپنی نے تمام ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 1,70,000 کیوبک میٹر سے زائد مٹی نکال لی، جو کہ منظور شدہ حد سے سات گنا زیادہ ہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ کھدائی ندی کے بہاؤ والے علاقے میں کی گئی، جہاں کسی بھی قسم کی کھدائی پر سخت پابندی ہے۔
فراڈ کا نیا طریقہ: ٹرانسپورٹیشن میں گھپلہ
اس معاملے میں صرف مٹی کا غیر قانونی کھنن ہی نہیں، بلکہ سرکاری خزانے کو چونا لگانے کا ایک بڑا منصوبہ بھی بے نقاب ہوا ہے۔ شکایات کے مطابق، مٹی پل کے بالکل قریب سے نکالی گئی، لیکن سرکاری کاغذات میں اسے تین کلومیٹر دور واقع گاؤں سے لانا دکھایا گیا۔ اس فرضی دوری (لیڈ ڈسٹنس) کے ذریعے نقل و حمل کے اخراجات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ سرکاری رقم کا غبن کیا جا سکے۔ الزام ہے کہ متعلقہ حکام نے بغیر کسی زمینی معائنے یا ڈرون سروے کے ہی سب کچھ درست ہونے کی رپورٹ پیش کر دی۔
این جی ٹی کی تحقیقات کا انتظار
اس پورے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے این جی ٹی (نیشنل گرین ٹریبونل) میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ مقامی سماجی کارکنوں دیوورت سہنی اور وکاس کمار پاٹھک نے اس معاملے کو حکومت اور ٹریبونل کے سامنے اٹھایا ہے۔ فی الحال این جی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ضلعی کان کنی افسر اخلاق احمد کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ کی گئی ہے اور ایجنسی پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، تاہم حتمی رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی ہے۔
اگر وقت رہتے اس معاملے کی شفاف تحقیقات نہ ہوئی تو آنے والے وقت میں چندوارا پل کی بنیادیں کمزور پڑ سکتی ہیں، جس سے ایک بڑا حادثہ رونما ہونے کا خدشہ ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
