مظفرپور کے سرکاری ہسپتالوں میں سیکیورٹی کا نظام تبدیل: یکم جون سے نئی ایجنسی سنبھالے گی ذمہ داری
صحت مراکز میں سیکیورٹی اور ٹرالی خدمات کا نیا انتظام
مظفرپور کے سرکاری طبی مراکز میں خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششوں کے تحت ایک اہم فیصلہ لیا گیا ہے۔ ایس کے ایم سی ایچ (SKMCH) کے بعد اب ضلع کے تمام صدر ہسپتالوں، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز (CHC) اور پرائمری ہیلتھ سینٹرز (PHC) میں سیکیورٹی اور ٹرالی سروس فراہم کرنے والی ایجنسی کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین احکامات کے مطابق، اب تک خدمات انجام دینے والی ‘گوسوامی سیکیورٹی سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ’ کا معاہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کی جگہ اب ‘ارمیلا انٹرنیشنل سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ’ کو ان تمام مراکز میں سیکیورٹی اور ٹرالی مینجمنٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ تبدیلی یکم جون سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو جائے گی۔
انتظامی تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ضلع کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ہسپتال کے احاطے میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، مریضوں کو ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ تک منتقل کرنے کے لیے ٹرالی سروس کا بروقت دستیاب ہونا بھی ایک بڑی ضرورت ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ نئی ایجنسی کے آنے سے ان خدمات میں شفافیت آئے گی اور مریضوں کو درپیش مسائل میں کمی واقع ہوگی۔
- یکم جون سے نئی ایجنسی کا کام شروع ہوگا۔
- صدر ہسپتال، سی ایچ سی اور پی ایچ سی کے تمام مراکز اس تبدیلی کے دائرہ کار میں ہوں گے۔
- سیکیورٹی اہلکاروں اور ٹرالی آپریٹرز کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
سول سرجن دفتر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے بعد تمام متعلقہ مراکز کے انچارجوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نئی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ہسپتال کے معمولات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس انتظامی تبدیلی سے ہسپتال آنے والے عام شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی اور سیکیورٹی کے نظام میں مزید بہتری آئے گی۔
شہریوں کی جانب سے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے، تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ زمینی سطح پر نئی ایجنسی کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
