مقامی خبریں

بی آر اے بی یو: پی جی ہاسٹل میں پانی کا بحران، طلباء کا انتظامیہ کے خلاف احتجاج

پانی کی بوند بوند کو ترسے طلباء، انتظامیہ کے دفتر میں ہنگامہ

مظفرپور کے بی آر اے بی یو (BRABU) کیمپس میں واقع پی جی بوائز ہاسٹل نمبر 3 کے رہائشی طلباء کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پیر کی دوپہر، ہاسٹل میں پانی کی فراہمی بند ہونے کے خلاف طلباء نے یونیورسٹی کے انتظامی بلاک کا رخ کیا اور شدید احتجاج درج کرایا۔ طلباء کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت کے باعث ان کی روزمرہ کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ اس سنگین مسئلے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

اتوار کی شام سے ہی نل خشک

متاثرہ طلباء نے بتایا کہ ہاسٹل کی پانی کی ٹنکی میں اتوار کی شام سے ہی پانی نہیں پہنچ رہا ہے۔ پانی کی عدم دستیابی کے باعث نہ صرف پینے کے پانی کا بحران پیدا ہو گیا ہے بلکہ بیت الخلاء اور نہانے دھونے کے لیے بھی پانی میسر نہیں ہے۔ طلباء نے الزام لگایا کہ ہاسٹل انتظامیہ کو بار بار مطلع کرنے کے باوجود موٹر چلانے یا پائپ لائن کی مرمت کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

انتظامی کاموں پر اثر

احتجاج کے دوران طلباء نے انتظامی بلاک کے باہر نعرے بازی کی، جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے دفتری کاموں میں کافی رکاوٹ پیدا ہوئی۔ طلباء کا مطالبہ ہے کہ ہاسٹل میں پانی کی سپلائی کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے مستقل انتظام کیا جائے۔

انتظامیہ کی خاموشی

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا گیا ہے۔ طلباء نے انتباہ دیا ہے کہ اگر جلد ہی پانی کی فراہمی یقینی نہیں بنائی گئی تو وہ اپنے احتجاج کو مزید تیز کریں گے۔ ہاسٹل میں مقیم طلباء کا کہنا ہے کہ گرمی کے اس موسم میں پانی کے بغیر رہنا ناممکن ہو گیا ہے اور یونیورسٹی حکام کی لاپرواہی ناقابل برداشت ہے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر یونیورسٹی کے ہاسٹلوں میں بنیادی سہولیات کے فقدان پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ طلباء اب امید کر رہے ہیں کہ اعلیٰ حکام اس معاملے کا نوٹس لیں گے اور ہاسٹل کے رہائشیوں کو درپیش اس بنیادی مسئلے کا حل نکالیں گے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button