مظفرپور: ٹی بی کے مریضوں کی مدد کے لیے آگے آئے تاجر، 18 جولائی کو تقسیم ہوں گے غذائی کٹ
مظفرپور میں ٹی بی مکت بھارت مہم کے تحت انسانیت کی نئی مثال
مظفرپور میں ٹی بی کے مریضوں کی زندگیوں میں بہتری لانے اور انہیں بیماری سے لڑنے کی طاقت فراہم کرنے کے لیے ایک اہم سماجی پہل کا آغاز کیا گیا ہے۔ ‘نکشیہ متر یوجنا’ کے تحت، شہر کی تین بڑی تنظیمیں—اتر بہار کامرس اینڈ انڈسٹری کونسل، بہار پرادیشک مارواڑی سمیلن، اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ایسوسی ایشن—مشترکہ طور پر ٹی بی کے مریضوں کو غذائیت سے بھرپور کٹ فراہم کرنے جا رہی ہیں۔
اس مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے چیمبر آف کامرس کے صدر شیام سندر بھیمسیریا نے کہا کہ 18 جولائی کو چیمبر کے احاطے میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی۔ اس تقریب میں ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے، جبکہ محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود ہوں گے۔
اس پہل کا مقصد صرف مریضوں کو راشن فراہم کرنا نہیں ہے، بلکہ معاشرے میں اس بیماری کے تئیں بیداری پیدا کرنا اور مریضوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ اس لڑائی میں تنہا نہیں ہیں۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ متوازن غذا ٹی بی کے علاج میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اور اس طرح کی مدد سے مریضوں کی صحت یابی کی شرح میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
سماجی ذمہ داری کا احساس
پریس کانفرنس کے دوران تمام متعلقہ تنظیموں کے عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کام محض ایک سماجی خدمت نہیں بلکہ انسانیت کے ناطے ہمارا اخلاقی فرض ہے۔ چیمبر کے महामंत्री پرمود جاجودیا، سجن شرما، غریب ناتھ بنکا، اشوک نیمانی، شراون چھاپڑیا، راجیو کیجریوال، مہیندر تلسیان، سنجے پودار، پون ڈھانڈھاریہ اور گوپال بھرتیہ سمیت دیگر اہم شخصیات نے اس مہم کو کامیاب بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
اس کے علاوہ، مارواڑی سمیلن کے صدر شیام سندر بھرتیہ، سکریٹری سندیپ اگروال، شراون صراف، پرنسو مودی اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے سی اے انکت حصاریہ نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔ منتظمین نے شہر کے دیگر صاحبِ استطاعت افراد سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس نیک مقصد میں اپنا تعاون پیش کریں تاکہ ‘ٹی بی مکت بھارت’ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
