مقامی خبریں

مظفرپور: ایس سی/ایس ٹی طلباء سے فیس وصولی پر طلباء رہنماؤں کا احتجاج

مظفرپور: یونیورسٹی انتظامیہ کی واضح ہدایات کے باوجود، مظفرپور کے کچھ کالجوں میں شیڈولڈ کاسٹ (ایس سی) اور شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی) طلباء سے فیس وصول کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس معاملے پر طلباء رہنما طیب خان نے شدید احتجاج کیا ہے اور وائس چانسلر کے دفتر میں ایک باقاعدہ خط جمع کرایا ہے جس میں فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

طیب خان نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ایس سی اور ایس ٹی طلباء کو فیس سے مستثنیٰ قرار دینے کے لیے واضح ہدایات جاری کی تھیں۔ ان ہدایات کا مقصد پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلباء کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنا اور ان پر مالی بوجھ کو کم کرنا تھا۔ تاہم، کچھ کالجوں کی جانب سے ان ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے طلباء سے فیس وصول کرنا نہ صرف یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ طلباء کے حقوق کی بھی پامالی ہے۔

خان نے مزید کہا کہ جب یونیورسٹی کی جانب سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ ان طلباء سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی، تو کالجوں کا یہ عمل سراسر غیر منصفانہ اور ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ یہ اقدام ان طلباء کو تعلیم سے محروم کر سکتا ہے جو مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کن کالجوں میں یہ خلاف ورزی ہو رہی ہے اور اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔

طلباء رہنما نے وائس چانسلر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں اور فوری طور پر مداخلت کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو کالج یونیورسٹی کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال دوبارہ پیش نہ آئے۔ طیب خان نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے پر فوری توجہ نہ دی گئی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو طلباء برادری مزید احتجاجی اقدامات پر مجبور ہو سکتی ہے۔

یہ معاملہ مظفرپور کی تعلیمی برادری میں تشویش کا باعث بن گیا ہے، جہاں طلباء اور ان کے والدین یونیورسٹی انتظامیہ سے انصاف کی امید کر رہے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر تعلیمی اداروں میں شفافیت اور قواعد و ضوابط کی پاسداری کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button