مظفرپور اور جگدیشپور کے درمیان خستہ حال سڑک: صدیوں پرانی شکایت، حکومتی بے توجہی
مظفرپور اور جگدیشپور کے دیہات کو ملانے والی اہم سڑک کی حالت انتہائی خستہ ہے، جس پر گہرے گڑھے پڑ چکے ہیں۔ اس صورتحال نے مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور آمدورفت کو ایک مشکل چیلنج بنا دیا ہے۔ یہ سڑک نہ صرف ان دو دیہات کے لیے بلکہ کسین پور، کھیڑیا، چھولی، میرپور اور کئی دیگر ملحقہ بستیوں کے لیے بھی ایک مرکزی راستہ ہے۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ سڑک صدیوں سے موجود ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر آج تک اسے پختہ نہیں کیا گیا۔ دیہاتیوں نے بارہا اس سڑک کی مرمت اور پختہ کرنے کے لیے حکام سے رجوع کیا ہے، مگر ان کی شکایات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ بنی سنگھ، بھورا، وپن اور سنیل جیسے مقامی افراد نے بتایا کہ انہوں نے کئی بار اپنی شکایات درج کروائیں، لیکن ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔
جگدیشپور اور مظفرپور گرام پنچایت کے لیے یہ سڑک ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی خستہ حالی کی وجہ سے کسانوں کو اپنی فصلیں منڈیوں تک پہنچانے میں دشواری کا سامنا ہے، جبکہ طلباء کو اسکول جانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ایمرجنسی کی صورتحال میں، خاص طور پر بارشوں کے موسم میں، یہ سڑک مکمل طور پر ناقابل استعمال ہو جاتی ہے، جس سے طبی امداد تک رسائی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔
گاؤں کے سرپنچ، ہری بابو شرما نے تصدیق کی کہ انہوں نے اس سڑک کی تعمیر نو کے لیے متعدد بار حکومتی اداروں کو تجاویز بھیجی ہیں، لیکن افسوس کہ اب تک ان تجاویز پر کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ صورتحال مقامی آبادی میں شدید مایوسی اور غصے کا باعث بن رہی ہے۔ دیہاتیوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ دے اور اس اہم سڑک کو پختہ کر کے ان کی مشکلات کا ازالہ کرے۔
اس سڑک کی تعمیر نہ ہونے سے نہ صرف وقت اور ایندھن کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ مقامی معیشت پر بھی اس کا منفی اثر پڑ رہا ہے کیونکہ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دیہاتیوں نے امید ظاہر کی ہے کہ میڈیا کے ذریعے ان کی آواز حکام بالا تک پہنچے گی اور انہیں جلد از جلد اس دیرینہ مسئلے سے نجات ملے گی۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔