مشہور شوٹنگ کوچ اور ایشین گیمز کے گولڈ میڈلسٹ جسپال رانا کا 49 برس کی عمر میں انتقال
کھیل کی دنیا میں سوگ کی لہر
ہندوستانی نشانے بازی کے افق پر چمکنے والا ایک روشن ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ مشہور شوٹنگ کوچ اور ایشین گیمز کے سابق گولڈ میڈلسٹ جسپال رانا 49 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اطلاعات کے مطابق انہیں دل کا دورہ پڑا تھا، جس کے بعد انہیں دہلی کے میکس ہسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی اچانک موت نے نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پورے ملک کے کھیلوں کے حلقوں کو گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔
ایک شاندار کیریئر کی جھلک
28 جون 1976 کو اتراکھنڈ کے اترکاشی میں پیدا ہونے والے جسپال رانا نے بہت کم عمری میں ہی نشانے بازی کی دنیا میں اپنے قدم جما لیے تھے۔ انہیں یہ فن اپنے والد سے ورثے میں ملا تھا۔ محض 10 سال کی عمر سے ہی پستول اور رائفل کو اپنا ساتھی بنانے والے جسپال نے 11-12 سال کی عمر تک قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ ان کی بہن سشما رانا بھی ایک کامیاب شوٹر رہی ہیں اور 2006 کے کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیت چکی ہیں۔
اعزازات اور کامیابیاں
جسپال رانا کا کیریئر کامیابیوں سے عبارت رہا۔ انہوں نے اپنے شاندار کیریئر کے دوران 15 بین الاقوامی تمغے اپنے نام کیے۔ 1988 میں احمد آباد میں منعقدہ 31ویں نیشنل شوٹنگ چیمپئن شپ میں سلور میڈل جیتنے سے لے کر ہیروشیما ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے تک، ان کا سفر متاثر کن رہا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں محض 18 سال کی عمر میں ‘ارجن ایوارڈ’ سے نوازا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ‘دروناچاریہ ایوارڈ’ سے بھی سرفراز کیے گئے تھے۔
ایک استاد اور رہنما
کھیلوں سے ریٹائرمنٹ کے بعد، جسپال رانا نے کوچنگ کے شعبے میں اپنی پہچان بنائی۔ وہ ہندوستان کی سٹار شوٹر منو بھاکر کے کوچ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور کئی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مشعلِ راہ تھے۔ انہوں نے اتراکھنڈ کی سیاست میں بھی حصہ لیا اور ریاستی حکومت میں کھیل وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کی وفات پر اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی سمیت کئی اہم شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور انہیں ایک عظیم کھلاڑی اور بہترین استاد قرار دیا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔