Opinion مَشْوَرَہ ، خَیَالْ

اک چراغ ہم نے جلایا ہے ہواؤں کے خلاف

علامہ مفتی اظہاراحمدفیضی

Advertisement

اک چراغ ہم نے جلایا ہے ہواؤں کے خلاف

علامہ مفتی اظہاراحمدفیضی
حضرت علامہ اظہار احمد فیضی صاحب قبلہ خادم دارالعلوم اہلسنت یارعلویہ فیض الرسول نوڈہوا سکھوانی مہراجگنج یوپی گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس جہان رنگ و بو میں ہزاروں افراد پیدائش کے مرحلے سے گزرتے ہیں اور ہزاروں موت کی وادیوں میں اتر جاتے ہیں ان میں کتنے ہوۓ ہیں جو بامقصد زندگی کو سمجھتے ہیں اوراسے پورا کرنے کے لٸے جد وجہد  بھی کرتے ہیں کہنے والے نے سچ کہا ہے عمرہا باید کہ تا یک مرد حق پیدا شود
اس تحریک کے ما تحت بالغ نظر بلند خیال علماء اور فضلاءکی ایک جماعت ہے جو امت مسلمہ کو پیش آنے والے مساٸل میں رہنمائی فراہم کرتی ہے میں سلام عقیدت ومحبت پیش کرتاہوں آپ کے جذبات واحساسات کو کہ آپ نے تحریک پیغام انسانیت قائم فرماکر انسانیت کا ثبوت پیش کیا ہےاور بدلباغ ضلع مہراجگنج کی سنگلاخ دھرتی پر(جس ضلعے میں متمول حضرات علماء کرام سے کوسوں دور بھاگتے ہوئے نظر آتے ہوں)رہتے ہوۓ جو کارہائے نمایاں انجام دیا ہےا ور دے رہے ہیں وہ خصوصیات اور خدمات آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے اورجو سعی آپ نے کی ہے وہ ناقابل فراموش ہے میں تہہ دل اور عشق وعقیدت کے ساتھ آپ کی خدمات پر آپ کومبارکبادپیش کررہاہوں اور عوام اہلسنت بالخصوص متمول حضرات سےپرخلوص اپیل وگزارش ہے کہ حضرت علامہ مولانا نظام احمدصاحب قبلہ مصباحی کے مجوزہ منصوبوں اور عزائم کو عملی جامہ  پہنانے کے لئے حضرت مولانا نظام احمد صاحب قبلہ مصباحی کے قدم سےقدم ملاکر شانہ بشانہ چلیں اور اس تحریک کو فروغ دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں اور اس تحریک کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے دل کھول کر مالی تعاون پیش فرمائیں کیونکہ دامے درمےقدمے سخنے امدادواعانت  آپ کا دینی وملی اور اخلاقی فریضہ ہے  اور تحریک پیغام سنیت کےاس مشن کو آگے بڑھانے لئے
علمائے کرام  وارباب دانشور اپنے قیمتی ومفید مشوروں سے نوازیںآپ یقین مانیں جو صرف اپنے لئے جیتا ہے قوم اسے بھلا دیتی ہے اور جو الله ورسول کے لیۓ جیتاہے دنیا اسے نہیں بھلاتی یوں کہہ لیں جس کی زند کامشن الله ورسول کے نام کو بلند کرنا ہو تو الله رب العزت قیامت تک اس کے نام کو بلندی دے دیتا ہےتحریک پیغام انسانیت کے حوالے سے مولانا نظام احمد صاحب آواز دے رہے ہیں، 
مری ہمت کو سراہو مرے ہمراہ چلو ایک چراغ ہم نے جلایاہے ہواٶں کے خلاف،اور محمد ذوالفقار علی قادری 
مظفر پور بہار تحریک پیغام انسانیت کے اغراض ومقاصد کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ آج دنیا کے اندر بے شمار قومیں آباد ہیں ان گنت مذاہب ہیں ہر قوم کے زندگی گزارنے کا ایک معیار اور اپنا طریقہ کار ہےمگر آج ہر کوئی اپنی زندگی سے دو چار ہیں ، اپنی زندگی کو صحیح طور پہ استعمال نہیں کر پا رہے ہیں ہر کسی کو ہر قسم کی سہولتیں میسر نہیں ہیں جس سے وہ اپنی زندگی کے قیمتی وقتوں کو صحیح طور پہ استعمال کر سکے اپنی زندگی کو بہترین طریقے سے گزار سکے اور آج یہ کسی سے پوشیدہ بھی نہیں کہ ہر کوئی کسی نہ کسی کمی کی وجہ سے اپنی زندگی کو ناکامی کے دلدل میں پھنسا رہے ہیں، 
 تو کوئی اپنی زندگی سے دو چار ہو کر کوئی ایسا راستہ اختیار کر بیٹھتے ہیں جس سے اپنے ہی ہاتھوں اپنی دنیا و آخرت برباد رہے ہیں آپ بھی دیکھیں کوئی پاگل ہو رہے ہیں تو کوئی گھر بار چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں تو کوئی خودکشی کر رہے ہیں تو کوئی شرم و حیاء کی غیرت کو پامال کر کے بد فعلی میں مبتلا ہو رہے ہیں تو کوئی کچھ تو کوئی کچھ وغیرہ وغیرہ، ان سب چیزوں کا جب ہم نے مشاہدہ کیا تو بفضلہ تعالی دل ہی دل میں یہ خیال آنے لگا کہ کیوں نہ کوئی ایسا کام کیا جائے-کیوں نہ کوئی ایسا طریقہ اپنایا جائے کیوں نہ کوئی ایسی تنظیم و گروپ بنایا جائے جس سے  اجڑے ہوئے دیار میں بہار آ جائے، بے گھر انسانوں کو گھر مل جائے مرجھائے ہوئے چمن میں تازگی آ جائے اپنی زندگی سے دو چار ہونے والے اپنی زندگی میں چار چاند لگائے سیدھے راستے سے گم ہونے والے کو صحیح رہنما مل جائے تاکہ اپنے راستے کو درست کر لے، اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنا کر گزارے، اپنی قابلیت و صلاحیت کو اجاگر کر لے اپنی ہنرمندی و فنکاری کو صحیح وقت میں صحیح طریقے سے استعمال کر کے اپنی دنیا و آخرت سنوار لے اور اپنی قسمت کے ستارے کو اوج ثریا سے بھی اونچا کر لے، 
ان خیالات کے آتے ہی ہم نے عزم مصمم کیا اور پختہ ارادے کے ساتھ ایسی تنظیم و گروپ کی بنیاد رکھی جس سے
لوگوں کے درپیش مسائل کا حل ہو، ائمہ و نائبین کی تنخواہوں کا اہتمام ہو اور وقتاً فوقتاً ان کی بہترین طریقے سے امداد ہو، ضرورت مندوں کی ضرورتیں کی پوری ہو، 
غرباء و فقراء کے یہاں شادی میں ضروری امداد ہو،
نوجوانوں میں دینی و مذہبی و مسلکی بیداری ہو، عام دنوں بلکہ خاص طور سےماہ رمضان میں غرباء و مساکین کے لیے کپڑے وغیرہ کی تقسیم ہو، جو لوگ غربت کے شکار ہیں ان کی غربت کو دور ہو، جو عورتیں بیوہ یا طلاق شدہ ہیں ان کی بھرپور مدد ہو، جو لوگ علاج و معالجہ کے معاملے میں کمزور ہوں اور ان کی یہ کمزوری موت کے منہ میں لے جانے والی ہو تو وہ کمزوری مکمل طور سے دور ہو، 
جو لوگ تنگ دستی کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں اس دلدل سے نکالنے کا بہترین ذریعہ میسر ہو، جو لوگ ہنر مندی و فنکاری سے آشانہ ہو کر بھی اپنی ہنرمندی و فنکاری کو اجاگر نہیں کر پاتے ہوں تو ان کے لئے انکی ہنرمندی و فنکاری اجاگر کرنے کا انوکھا راستہ ہموار ہو، جو والدین مالی پوزیشن کی وجہ سے اپنی بچیوں کے ہاتھ پلے نہیں کر پا رہے ہوں تو ان کی امداد کے سلسلے میں عمدہ اہتمام ہو
،دیہی پسماندہ علاقوں میں تعلیمی بیداری پیدا ہو، ،عصری تعلیم میں منہمک غریب طلباء میں اعلیٰ ذہن طلباء کو مزید اعلیٰ تعلیم کے لئے سہولیات فراہم ہو، اسلامی سمر کلاسیز سے عصری طلباء اسلامی احکام سے رُوشناس ہو، تعلیم یافتہ,نوکری پیشہ, وکلاء اور ڈاکٹرس وغیرہ کے لئے دینی سینٹر کا انعقاد،ایک دینی ہندی ماہنامہ جاری ہو، طلباء سے اعلی ذہن طلباء کو منتخب کرکے انہیں ڈاکٹر وکیل آئی پی ایس اور اعلیٰ تعلیم کے لئے فیس وغیرہ کا انتظام ہو، ایک ہندی اور اردو اخبار جاری ہو،ایک دینی ہندی ماہنامہ جاری ہو مختصر یہ کہ ہر اعتبار سے ہر طریقے سے لوگوں کی مدد کی جائے مثلا جو تعلیم سے دور ہیں ان کے لئے عمدہ تعلیم کا انتظام کیا جائے،جس بستی میں مسجد نہیں ہے یا مسجد تو ہے امام نہیں ہے یا امام تو ہے مگر قابل امام نہیں ہے تو اس بستی کے لئے مسجد یا امام یا قابل امام اور انکے اخرجات کا بہترین انتظام کیا جائے،یونہی جس بستی یا شہر میں مدرسہ نہیں ہے یا مدرسہ تو ہے مدرس نہیں ہے یا مدرس تو ہے قابل مدرس نہیں ہے تو اس بستی یا شہر کے لئے مدرسہ یا مدرس یا قابل مدرس اور انکے اخرجات کا انتظام کیا جائے،یتیم بچیوں بیوا و لا چار اور طلاق شدہ عورتوں کے لئے بہتر سے بہتر انتظام کیا جائے جس سے وہ اپنی زندگی کو خوشی و شادمانی کے ساتھ ساتھ عمدہ طریقے پر گزار سکیں،جن بچیوں کے رشتے نہیں آ رہے ہیں یا ان کے والدین غربت کے شکار ہیں تو ان کی بھرپور مدد کی جائے جس سے وہ اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کر سکے،
جو لوگ علاج و معالجہ کے معاملے میں کمزور ہیں ان کے لئے علاج و معالجہ کا انتظام کیا جائے، کن کن چیزوں کو گنایا جائے اور کن کن چیزوں کو بتایا جائے بس مختصر یہ جان لین کہ ہماری تنظیم تحریک پیغام انسانیت انڈیا کا مقاصد حسنہ یہی ہے کہ ہر اعتبار سے ہر قسم کی پریشانیوں کا حل ہر میعار و اعتبار سے ہر لمحہ ہر پل کی جائے، انہی سب حقائق و مقاصد کے تحت ہم نے اپنی تنظیم کا نام تحریک پیغام انسانیت  انڈیا رکھاہے، اخیر میں رب قدیر کی بارگاہ قدس میں دعاہے کہ پروردگار آپ کے علم وعمل زبان وقلم صحت وتندرستی میں خوب برکتیں  رحمتیں عظمتیں عطا فرماۓ آمین بجاہ النبی الکریمﷺ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

اپ یڈ بلاکر کو ہٹا کر ہمارے ویب سائٹ کو دیکھئے