Education & Career تَعْلِیم اور کَیْرِیَر

یوم اے اُردو

اردو زبان اور ہم

Advertisement

یوم اے اُردو جو ہر سال ۹ نومبر کو منایا جاتا ھے، اپنا ایک الگ مقام رکھتا ھے اُردو ادب کے چاہنے والوں کے لئے۔لیکن گذشتہ کچھ سالوں سے یہ ایک غور و فکر کا عنوان بنا ہوا ہے، وجہ اردو استعمال کرنے والوں کی کمی اور اس زبان کا چلن کم ہونا، خاص طور پر عام استعمال میں۔ اج ایک جلسہ میں شرکت کی تو کئی ساری باتیں ابھر کے سامنے آئیں جو ساجھا کرنا چاہتی ہو۔

پہلی بات تو یہ کے اردو کے لیے جو ہماری ذمےداری ہے ہم اسے پوری کرنے میں ناکامیاب رہے ہیں، جی ہاں ہم اسے قبول کر لیں تو اچھا ہے، ہم سے مراد ہم سب ہیں، یاد رہے اردو کسی مخصوص قوم، ادارے یا مذہب کی ملکیت نہیں ہے یہ سب کی زبان ہے، اردو کی فراق دیلي سے سب واقف ہیں، ہماری ناکامی اسے اسکا صحیح درجہ دینے میں ہوئی ہے ، کچھ مثالیں پیش کرتی ہوں،ہم اپنے دستخط کرتے ہیں انگریزی میں، اپنی نیم پلیٹ بنواتے ہیں انگریزی میں،اپنے اداروں کے نام ،سائن بورڈ سب کچھ انگریزی میں، ذرا سوچیے کسی نے ہمیں روکا ہے کیا؟

دوسری اور سب سے اہم بات کے ہم اپنی نوجوان نسل میں اسکا ذوق شوق پیدا نہیں کر پا رہے اور اگر کر بھی پا رہے ہیں تو صرف شاعری کی حد تک یا چند مقامات پر اس کے استعمال تک محدود رکھ کر، ہم اسے ایک کیرئیر آپشن کے طور پر نمائیاں اور کامگر بنانے میں پوری طور سے ناکام ثابت ہوئے ہیں کیوں کے اردو کو بطور کریر اج کا نوجوان نہیں دیکھتا اور ہے بھی صحیح کیوکے ہم نے اردو کو معیشت سے جوڑا ہی نہیں؟ کتنے ادارے ایسے ہیں جہاں اردو استعمال کی جاتی ہے؟ کتنی ویبسائٹ ہیں جو اردو میں ہوں؟کتنی موبائل ایپ ہیں جو اردو میں ہوں؟کتنی پرنٹنگ ہے جو اردو میں ہوتی ہو؟ اُردو میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک طالب علم کو ہم کیا ذرائع محیا کرا پا رہے ہیں جو وہ اردو میں تعلیم مکمل کر کے بفکر ہو جائے؟

Advertisement

اور تیسری اور سب سے اہم ترین بات ہے ہماری اپنی شراکت، ہم اپنے گھروں اپنے اداروں میں اسکو بڑھاوا دے رہے ہیں کیا؟ ہم اردو یونیورسٹی کو بھر پا رہے ہیں؟ کیا طالب علم ہیں پڑھنے کے لیے؟کیو ہم اپنے بچوں سے نہیں کہہ پا رہے کہ اردو ایک بہترین زبان ہے اسے سیکھو، کیو ہم اسے اپنی بول چال کی زبان نہیں بنا پا رہے؟کیو ہم نہیں کہتے کے اردو کی کتابت سیکھو؟ کیو ہم فخر محسوس کرتے ہیں اگر ہمارا بچہ انگریزی بولتا ہے تو ہم کیو فخر سے نہیں کہتے کے ہمارے بچہ کو اردو بولنا، پڑھنا اور لکھنا آتا ہے، جب تک ہم اسے سینس آف پرائڈ نہیں بنائینگے تب تک ہماری آنے والی پیڑھی بھی اسمے  فخر محسوس نہیں کریگی.

تو آئیے ایک چھوٹی سی شروعات کریں، اپنے روز مرہ کی گفتگو اور کتابت میں اسے جگہ دیں

Sufia Qureshi

An Entrepreneur by profession, a poet and social worker by passion and a learner by birth. Into Training and Recruitment industry.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

اپ یڈ بلاکر کو ہٹا کر ہمارے ویب سائٹ کو دیکھئے