Cities شہرIslam

ڈاکٹرظفرالاسلام خان کاجرم کیاہے؟

Advertisement

ڈاکٹرظفرالاسلام خان کاجرم کیاہے؟

آپ سبھی لوگ اچھے سے جانتے مانتے پڑھتے اور سنتے ہیں کہ ہمارے ملک ہندوستان کیباریمیں عام طور پر کہاجاتاہے کہ اس کے امن وامان نیز ترقی واستحکام کیچار ستون ہیں،قانون، عدلیہ، انتطامیہ، اور صحافت، اور یہ بات بڑی حدتک سچ مچ اور درست بھی ہے اورصحافت جس کی بنیادقلم ہے میڈیا ذرائع ابلاغ کا سب سے اہم رول اداکرتاہے اورمیڈیا اس وقت پوری دنیا میں اتنا وسیع نیز ہمہ گیر ہوچکاہے کہ ہر پل ہرآن آن لائن اس پر لوگوں کی نظریں جمی رہتی ہیں، کچھ سال پہلے لوگ ٹی وی ،ریڈیو اور اخبارکے ذریعے پوری دنیا کے حالات سیباخبرہوتے تھے مگر اس جدید ٹیکنالوجی ڈیجیٹل دور میں آج سب کے پاس اینڈرائڈ موبائل ہے جس کی اسکرین پر صرف ایک کلک پر گھر بیٹھے آرام سے پوری دنیا کا مشاہدہ اور نظارہ کرسکتے ہیں ہر خبرسے واقف بھی ہوسکتے ہیں، مگر صحافت کے قانون میں ایک بات تو مُسلّم ہے کہ ہر خبرپر میڈیا کی پینی نظر بنی رہتی ہے اور ہر موضوع سے متعلق خبریں میڈیا کی گرفت میں رہتی ہیں نیز میڈیاسے وابستہ افراد اپنے اپنے نقطہء نظر یا اپنی اپنی پلاننگ کے طورپر دنیا کے سامنے وہ حقائق نیز وہ پہلو پیش کرتے ہیں اگر وہ خبرانکے پلان کے مطابق نہیں ہے تو اس سے چشم پوشی بھی کرتے ہیں نیز انہیں توڑ مروڑکرپیش کرتے ہیں جیساکہ آج کل آپ لوگ دیکھ سن اور پڑھ ہی رہے ہیں کہ گودی میڈیامسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہی ہیاور حقائق سیچشم پوشی کرکیانکو بدنام کرنیکا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہے،اوپرسییہ میڈیا والیاپنا لوگو”حقائق سے لبریز، صداقت کا علم بردار”حق وانصاف کا مسیحا”قوموں کی حیات ہے انکے تخیل پے موقوف”وغیرہ وغیرہ لکھیرہتے ہیں مگر ان کو ہینڈل کرنیوالاکہیں نہ کہیں کسی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتاہے اور چینل پارٹی کیحساب سے ہی خبر نشر یا شائع کرتی ہے، باہر سے دیکھنے میں یہ میڈیاوالے حقیقت کے علم بَردار اور سچائی وانصاف کے مسیحا معلوم ہوتے ہیں مگر باطن میں انکے اندر بھی نفرت، اور عداوت کے چنگاریاں جلتی رہتی ہیں، عالمی شہرت یافتہ صحافی، دی ملی گزٹ کے مدیر اعلی اور دہلی اقلیتی کمیشن کے چیرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان پر بھی ملک سے غداری کا مقدمہ درج ہواتھا انکے گھر پر پولیس بھی آئی تھی مگر حکومت سے سوال ہے کہ ان کاجرم کیاتھا؟ ان پر ملک سے غداری کا مقدمہ دائرکیوں کیاگیا؟حالیہ عرب ٹوئیٹر طوفان کے تناظر میں ڈاکٹر صاحب نے ہندی مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے کی وجہ سے ملکِ کویت کا شکریہ ادا کیاتھا اور ٹوئیٹر پر شکریہ کا ایک پیغام لکھا تھاڈاکٹرصاحب نے وہی بات کہی تھی جو ہندوستانی مسلمان سنگھیوں کے مظالم کے خلاف کہہ رہے ہیں اوریہ ہم ہی صرف نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ اب تو امریکہ، برطانیہ، یورپین یونین، سعودیہ عربیہ اورآرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس سمیت پوری دنیا کہہ رہی ہے. اگرڈاکٹرظفراللہ خان نے اسیدہرا دیا تو یہ ملک سے غداری کیسے ہوگئی؟ کیا اپنے اوپر ہو رہے ظلم وجبرکے خلاف بولنا بھی وطن سے غداری ہے؟ اور اپنے ملک میں مظلوم کے لیئے لب کھولنا بھی غیر قانونی عمل ہیکیا؟ڈاکٹرظفرالاسلام خان صاحب، دہلی کے اقلیتی کمیٹی کے چیرمین ہیں، ہندوتواطاقتوں اور گودی میڈیا کی جانب سیسخت حملوں سے دوچاررہے ہیں،فرقہ پرست ہندوتواطاقتوں نے ڈاکٹر صاحب کو صرف ایک ٹویٹ کی وجہ سے نشانہ بنایا ہے
ڈاکٹر صاحب میدان صحافت کے عظیم شہسوارہیں
عربی اردو ہندی انگلش چاروں زبانوں میں مکمل عبورحاصل ہے اور چاروں زبانوں میں آپکے مضامین ومقالات شائع ہوتے رہتے ہیں،آپ مدتوں کسی سیاسی پارٹی سے نہیں جڑے، اور نہ ہی اپنے کسی آقاکو خوش کرنیکی نوبت آئی، ڈاکٹر صاحب ایک بہترین اعلی تعلیم یافتہ اور عمدہ کارکردگی نیز بہترین کردار کی وجہ سے کافی مقبولیت کی حامل فردہیں۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کا کہناہے کہ حکومت ایسا مسلمان چاہتی ہے، جو نہ حق بول سکے، نہ حق لکھ سکے، نہ ہی حق کے ساتھ کھڑا ہوسکے،
اور نہ ہی حق کے لئے آواز بلند کرسکے،ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں،ڈاکٹرظفرالاسلام خان کسی ایریغیرینتھوکھیرے کا نام نہیں بلکہ ڈاکٹرظفرالاسلام خان محقق مترجم، اور متعددکتابوں کے مصنف کا نام ہے، ڈاکٹرظفرالاسلام خان صاحب مشہورعالم ومفکروحیدالدین خاں کے فرزند ہیں، لکھنؤ یونیورسٹی سیعالم فاضل کورس کیا، قاہرہ یونیورسٹی سے اسلامی تاریخ میں ایم اے کیا، مانچسٹر یونیورسٹی سے1987 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جامعہ ازہرکے کلیہ اصول الدین میں تعلیم حاصل کرنیکیبعد قاہرہ یونیورسٹی میں چندسال گزارے، اور وہیں سے اسلامی تاریخ میں ایم اے کیا، جس کے لئے مصرکی اکسچینج اسکالرشپ دوسال کے لئے ملی، پھرقاہرہ ریڈیومیں بحیثیت اردواناؤنسر بھی کام کیا، فروری 1973 سے لیبیا کی وزارت خارجہ میں بحیثیت مترجم وایڈیٹر کام کیا،
مصر میں حلقہء احباب میں بہت سے ادباء شعراء قلمکارحضرات اور محققین رہے جن میں وزیر ڈاکٹرحملی مراد جو پہلے عین شمس یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے، پھر وزیرتعلیم ہوئے، بڑے ادیب یحیی حقی، ڈاکٹر مصطفی محمود، شیخ محمدالغزالی، ڈاکٹر عبدالصبورشاہین تھے، صحافیوں میں جامعۃ القاہرہ میں ہم سبق ڈاکٹر عبدالحلیم عویس تھے، انکے قیام کے وقت بعض ادباء شعراء وصحافی جو اس وقت نوجوان تھے، بعد میں بہت مشہور ہو گئے، شاعر حسن توفیق، شاعر عفیفی مطر، جو "سنابل” نامی ادبی پرچہ نکالتے تھے، نقاد کمال حمدی وغیرہ،
1979اکتوبر میں لندن چلے گئے جہاں مزید پڑھنے کے لئے مانچسٹر یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا، جس کا موضوع "تصورہجرت”تھا جس میں بنیادی طور پر یہ معلوم۔کرنا تھا کہ مفسرین علماء حدیث اور فقہاء نے حکم "ہجرت”کو کیسے سمجھا، اور اسلامی تاریخ میں اس پر کیسے عمل کیاگیا،لیکن مزید پڑھنے کا موقع نہیں ملا،کیونکہ مسلم انسٹیوٹ نے اپنے کاموں میں مشغول رکھا،1984میں ہندوستان واپس آنے کے بعد دوبارہ 1987 میں مانچسٹر گئے اور پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کرکے لوٹے،
تصانیف. عربی، انگریزی اور اردو میں چالیس سے زائد کتابوں کے مصنف یامترجم ہیں جن میں یہ دوکتابیں بھی شامل ہیں، 1-اسلام میں ہجرت 2-فلسطینی دستاویزات، دائرۃ المعارف الاسلامیہ میں آٹھ مضامین بر صغیر میں مسلمانوں کیحوالے سے شامل کر چکے ہیں، 2000 سے ملی گزٹ اخبار نکال رہے ہیں،جو ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل پر مرکوزہے، یہ پرنٹ اور آن لائن دونوں صورتوں میں شائع ہوتا ہے،
چیریٹی الانس کے بانی اور چیرمین ہیں، یہ ادارہ ہندوستان میں فلاح وبہبودی کاکام کرتاہے اسکے علاوہ اشاعتی ادارہ فاروس میڈیا اور پبلشنگ کے ڈائریکٹر بھی ہیں، جولائی 2017 میں دہلی اقلیتی کمیشن کا صدر بنایا گیا،اور اس سے پہلے بھی 29مئی 2019 کو ڈاکٹرظفرالاسلام خان کو فون پر جان سے مارنے کی دھمکی بھی ملی تھی، اس وقت لوگوں کو حیرانی اس بات پر ہوئی تھی کہ یہ دھمکی کوئی اور نہیں بلکہ کمیشن کے ہی سابق سیکرٹری شمیم اختر نے دی تھی جن کا ٹرانسفر دہلی وقف بورڈ میں ہو چکا تھا،
اور حدتو یہ ہوگئی کہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ساتھ اقلیتی کمیشن کے رکن کرتارسنگھ کوچر کو بھی یہ دھمکی ملی تھی، اخیرمیں ایک بات عرض کرتا چلوں کہ ڈاکٹرظفرالاسلام خان، صاحب کے لئیاور ملک کیلئے فکر مند ہونے والے تمام لوگوں کیلئیسب سے اچھی خبر یہ ہے کہ 12 مئی کو جسٹس منوج کماراوبری پر مشتمل دہلی ہائی کورٹ کی ایک رکنی بنچ نے ڈاکٹر صاحب کی ضمانت کی عرضی پر حکم جاری کیاہے کہ کیس کی اگلی تاریخ 22 جون تک انکے خلاف کوئی تادیبی کاروائی نہیں ہوگی، عدالت سے ملنے والی یہ راحت ڈاکٹرصاحب اور ہم لوگوں کے لئیضمانت سے بڑھ کرہے ،اور دوسری طرف جسٹس راجیو سنہانے اینڈلا اور جسٹس سنگیتاڈھینگرہ سہگل پر مشتمل دورکنی بنچ نے ڈاکٹر خان کو دہلی اقلیتی کمیشن کے چیرمین کے منصب سے ہٹانے کی عرضی کو ابھی فی الحال خارج کردیاہے، اور عدالت کو بتایاگیاکہ ایل جی نے دہلی حکومت کو خط لکھاہے اور ڈاکٹر خان کو "وجہ بتاؤ”نوٹس بھیجاہے، عدالت نے کہا کہ دہلی حکومت مناسب مدت کے اندر معاملہ کو طئے کرلے، بنک کے ایک ریٹائر ملازم سبھاش چندرا نے ڈاکٹر صاحب کے خلاف ملک سے غداری کا الزام عائد کیاتھا اور کورٹ میں دعوی کیاتھا،دونوں تازہ فیصلوں سے یہ پتہ چلتاہے کہ ڈاکٹر صاحب کے خلاف جو ایف آئی آر درج ہوئی تھی، اسمیں کوئی جان نہیں،لہذا ایک طرف سیغورکیاجائے تو اس فیصلے سے ڈاکٹر صاحب کوہی نہیں، بلکہ ان تمام ہندو مسلم۔سکھ عیسائی اور دیگر افرادکوراحت ملی ہے جو ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں اور نفرت وعداوت کی سیاست سے فکرمند ہیں،

مضمون نگار ۔سدھارتھ یونیورسٹی سدھارتھ نگرکے ریسرچ اسکالر ہیں،
Email-qamaranjumfaizi@gmail.com

Advertisement
Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

اپ یڈ بلاکر کو ہٹا کر ہمارے ویب سائٹ کو دیکھئے