Uncategorized

کیا سچ میں سرکار ایل آیی سی بیچ دےگی ؟

Advertisement

کیا  سچ میں سرکار  ایل آیی سی بیچ  دے گی ؟

سرکار  کی  ایک  سال  کی کمایی  اور  اخراجات میں جو  فرق  ہوتا ہے  اس کو  مالیاتی زبان  میں  مالیاتی خسارہ کہا جاتا ہے

Advertisement

اس  مالیاتی  خسارہ  کو  پورا  کرنے کے لئے  سرکار  الگ الگ  قدم اٹھاتی ہے  ابھی جب  ہندوستان  10  سال کے سب سے بڑے معاشی سستی سے گزر رہا ہے تبھی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن   نے اس سال کا بجٹ پیش کرتے ہویے یہ بتایا  کی اس سال سرکار  بھارت کے سب سے بڑے انشورنس کمپنی  ایل آیی سی  سے  اپنی حصّہ داری  بیچ کر کم کرےگی    اس کو  مالیاتی زبان میں ڈائوسٹمنٹ  کہا  جاتا  ہے

پچھلے سال بھی سرکار  نے  1.05 لاکھ کڑوڑ  روپیے  ڈائوسٹمنٹ  کی امید رکھی تھی جس میں سے ابھی  تک تقریبا 18 ہزار کڑوڑ روپیے ہی   پورے  ہو  پاے – اس سال  2020 کے بجٹ میں سرکار  نے 2.1  لاکھ  کڑوڑ  روپے  ڈائوسٹمنٹ کرنے کا اعلان کیا ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں  دو گنا ہے – اس 2.1  لاکھ کڑوڑ روپیے  میں سے  90 ھزار کڑوڑ روپیے سرکاری بینک  اور  ایل آیی سی میں سے حصہ داری بیچ  کر  اور بچے ہوے  1.2 لاکھ کروڑ  روپیے سرکاری کمپنیوں میں سے حصہ داری  بیچ  کر پورے کیے جاینگے 

   ایک ایسا بھی وقت تھا  جب سرکار  کے بڑے  وقت میں ساتھ دینے کے لئے ایل آی سی   ڈوبتے ہوۓ سرکاری کمپنیوں کی شیئر  کو خرید کر سرکار کا ساتھ دیتی تھی جیسا کی آئی ڈی بی آی  بینک کو ایل آئی سی نے ڈوبنے سے بچایا، لیکن آج سرکار  اسی  ایل آئی سی  کو بیچنے پر لگی ہے 

ایل آیی سی  کتنی بڑی کمپنی ہے ؟

جلائی  2019 تک ایل آیی سی کی کل قدر تقریبا  31.11 لاکھ کڑوڑ روپیے تھی – اتنی  زیادہ  رقم  کا  اندازہ لگانے کے لئے  ایسا سمجھے کی پورے ہندوستان کے بجٹ میں تعلیم  پر صرف   99 ہزار  کڑوڑ  روپے ہے  اور  پورے  ہندوستان  کا دفاع- فوج  پر  بجٹ 2020 مین خرچ صرف  3.37 کروڑ  روپے  ہیں-  ان اخراجات سے موازنہ کرنے پر  یہ سمجھ آ ئےگی  کی  31.11   لاکھ  کروڑ کتنی بڑی  رقم ہے  – بھارت کے انشورنس  بازار میں  ایل آی سی  کی اکیلی حصّہ داری لگ بھگ  75٪ فیصد ہے

کیا  ایل آئی سی پرائیوٹ  ہو جاےگی ؟

نہیں ، ابھی سرکار کی ایل آی سی میں پوری 100٪   فیصد  حصّہ داری ہے-  اب سرکار   ایل آئی سی  کی شیئر  کو  شیر  بازار  میں بیچ  کر  اپنی  خود  کی حصّہ داری  کو  کم  کرےگی –  لگ بھگ 10٪  فیصد حصّیداری  بیچنے سے سرکار  کو  90  ہزار  کروڑ  تک مل جاےگا  ،  اور ابھی بھی سرکار کی حصّہ داری  ایل آی سی  میں 50 ٪ فیصد  سے زیادہ  رہےگی – اسلئے  ایل آئی سی  اس کے  بعد بھی سرکاری ہی رہےگی

ایل آیی سی میں انشورنس رکھنے والوں پر کیا اثر پڑے گا ؟

انشورنس بازار میں مشکل مقابلہ رہنے کے بعد بھی ایل آی سی کی پکڑ بہت مضبوط ہے اور اب  کھلے شیئر بازار میں آنے سے کام کاج میں کارکردگی اور بھی اچھی  ہو جاے گی اور ایسی امید لگائی جا رہی ہے کی ایل آی سی کا فائدہ بڑھ جاےگا- اگر ایسا ہوتا ہے تو ایل آیی سی  میں انشورنس رکھنے والوں  کو نفع ملےگا-

لیکن ایک احتیاط کرنے والی یہ بات رہےگی کہ ابھی تک ایل آی سی مکمّل سرکاری تھی تو اپنے خود کے فائدے سے زیادہ عوام کا فائدہ دھیان رکھتی تھی لیکن جب اب یہی کھلے شیر بازار میں آنے کے بعد کمپنی پر یہ دباؤ رہےگا کہ زیادہ سے زیادہ منافعہ دکھایا جائے اس وجہ سے ایسا ہو سکتا ہے کی عوام کو نظر انداز کر دیا جائے اور صرف مالی فائدہ  کو دھیان میں رکھا جائے

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

اپ یڈ بلاکر کو ہٹا کر ہمارے ویب سائٹ کو دیکھئے