Poem نظم

اِس دَور کا فِرعون

Advertisement

اِس دَور کا جو فِرعون بَنا ہے
بُھول گیا ہے مَحشر کو
میدانِ حَشر کی رُسوائی کو
اِنصاف و عدل کے مِیزاں کو
تُم سے پہلے بھی تو تھا کِتنوں کو غُرور
وہ بھی ہوئے بَرباد
تو بھی تو ہوگا مَاجُور
کیا یاد نہیں وہ جلالِ خُدا
پہاڑ بھی جب ہوئے رِیزہ رِیزہ
پہلے بھی تھا ایک فِرعون یَہاں
تَفاخُر میں وہ خود کو ہی سمجھتا تھا خُدا
پِھر نازل ہوئی جب مُعجزۂِ کلیم
دَریا پہ جب واضِح ہُوئی فرمانِ رحیم
مَغلوب ہوا وہ ہلاکَت میں گرفتار ہوا
گستاخِ مالكِ کُن بھی ہوا
وہ دائمی صاحبِ نار ہُوا
یہ دُنیا پِھر بھی فَانی ہے
اور دائِم ہوگی نارِ جَہنّم
وہ چیخے گا ، چِلائے گا
رو رو کر پچھتائے گا
اِس چھوٹے فِرعَون کو پُوچِھے بھی کون؟
اسکے مَکرو فَریب سے ڈرے بھی کون؟
جب فرمانِ حقّ کا ہوگا نُزول
جب پُھونکے گے اِسرافیل سُور
اِنالِلہ کی صَدا بلند کرتے ہوۓ هم بھی جائینگے
پِھر لا الہ الاللہ پڑھ پڑھ کر ہم بھی دیکھائیں گے

https://youtu.be/42ZpuFcw7go

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

اپ یڈ بلاکر کو ہٹا کر ہمارے ویب سائٹ کو دیکھئے